Monday, June 29, 2015

کراچی میں 1200 سے زائد ووٹرز کم ہوگئے،،،، یا یوں کہہ لیجئے کہ لقمہ اجل بن گئے، نہ تو ان     ووٹرزکو کسی مخالف سیاسی پارٹی نے قتل کیا نہ ہی انھیں جنرل ڈائر کی طرح کسی نے بھون ڈالا، یہ تمام ووٹرز ہر پارٹی کے تھے،،، ان میں لیاری کے پیپلز پارٹی کے جیالے بھی شامل تھے، تو نیو کراچی، ملیر، لانڈھی، نارتھ کراچی، لیاقت آباد، فیڈرل بی ایریا سمیت کئی علاقوں کے الطاف بھائی کے لئے جان دینے والے بھی ،، کوئی نہ کوئی تبدیلی کا متوالا عمران کا چاہنے والا بھی تھا تو کوئی  وہ تھا جو کسی پارٹی کو ووٹ دینا نہیں چاہتا تھا لیکن اسکے نام کا ووٹ ڈال دیا جاتا تھا۔ رمضان کا آغاز ہوتے ہی کراچی کو گرمی نے ایسی لپیٹ میں لیا کہ لوگوں کی سانس بند ہوگئی،،، جو تھوڑی بہت چل رہی تھی وہ لوڈ شیڈنگ نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کر ڈالی، میں نے اپنے مختصر صحافتی کیرئیر میں کچھ رپورٹنگ ایسی جگہوں پر بھی کی جہاں کے بارے میں کہاں جاتا ہے کہ خواتین کا وہاں جاتے ہی دل ڈوبںنے لگتا ہے، نبض کی روانی کم ہونے لگتی ہے اور آنکھیں نم ہونے لگتی ہیں،،، جی ہاں میں بات کر رہی ہوں مردہ خانوں اور سرد خانوں کی،،رزاق آباد پولیس ٹریننگ بس پر دھماکے کی کوریج میں نے جناح اسپتال کے وارڈ میں جاکر کی جہاں خون مین لت پت پولیس اہلکار زندگی و موت کی جنگ لڑ رہے تھے،، حب ریور روڈ پر ہونے والے المناک حادثے میں 80 سے زائد سوختہ لاشیں جب ایک ساتھ ایدھی کے سرد خانے لائیں گئیں تب میں وہاں موجود تھیں،،، ان سوختہ لاشوں کی تپش اور بو میرے وجود سے ایسے آرہی تھیں جیسے میں ان کے درمیان رہی ہوں، ائیر پورٹ پر حملے اور کارگو میں زندہ جل کر مرجانے والوں کے ورثاء کو تڑپتے ہوئے میں نے جناح اسپتال کے مردے خانے کے باہر دیکھا، سمندر میں عید کے روز خوشیاں منانے کے لئے جانے والے پچاس نوجوانوں کی لاشوں کو سمندر سے نکلتے اور پھر سرد خانوں میں منتقل ہوتے دیکھا، ایسی ہر کوریج کے مکمل ہوجانے کے بعد گھر واپسی پر ایک گہری خاموشی مجھے گھیرے ہوئے ہوتی تھی،،، کانوں میں اپنوں سے بچھڑ جانے والوں کی آہیں اور سسکیاں نیند کی دوا لینے کے باوجود سنائی دیتی تھیں لیکن اپنے وجود کو میں پر بار یہ کہہ کر مضبوط کر ڈالتی کہ " یہ قسمت کا لکھا ہے"۔
اس بار خود کو یہ سمجھانے کے باوجود کے کراچی میں جو ہوا وہ قدرت کا لکھا تھا ، اتنے لوگوں کی زندگی بس اتنی ہی تھی،،، نہ تو دل کو تسلی دیتا ہے نہ دماغ قبول کرتا ہے، یکم رمضان کے بعد سے کراچی کا پارہ چڑھتا ہی چلا گیا،،، درجہ حرارت 40 اور پھر 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا،، غریبوں کا دم گھٹنے لگا، چھوٹے مکانوں کی چھتیں تپنے لگیں،،، لوڈ شیڈنگ نے سانس لینے کا بچا کچھا حق بھی چھین لیا،،، اور دوسری جانب اعلی سیاسی شخصیات نے رمضان میں اپنی سیاسی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی غرض سے افطار پارٹیوں میں مینیو بھی بڑھا دیا، ایوانوں میں چلنے والے ایئرکنڈیشنز 26 سے 21 اور پھر 18 کے پارے پر لائے گئے، ایوانوں میں فینسی ڈریس شو کی ملکاوں نے سوئس لان کے نئے جوڑے زیب تن کر کے ایک دوسرے کو احوال بتایا کہ باہر گرمی بہت ہے گاڑی سے اتر کر ہال میں داخل ہونے تک میری طبیعت ناساز ہوگئی، ہر بار کی طرح ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے پر الزامات لگا کر ایوان میں وقت گزاری کی، صحافی گیلری میں بیٹھے مچھلی بازار کا احوال ٹکرز کی صورت میں چینلز تک پہنچاتے رہے،،، قیامت گزرتی جارہی تھی اور کسی کو خبر نہ ہوئی،، چینلز تب جاگے جب اطلاح ملی کہ شہر میں کچھ ایسا ہوگیا کہ مردہ خانوں میں جگہ نہیں رہی،،، تب ساری ڈی ایس این جی وینز کا رخ سرد خانوں کی جانب ہوا تو معلوم پڑا کہ اسپتالوں میں اس سے زیادہ برا حال ہے،،، سول، عباسی، جناح، لیاری جنرل، لیاقت آباد، نیو کراچی، نجی اسپتالوں اور بلدیہ عظمی کراچی کے چھوٹے بڑے تمام اسپتالوں میں لوگ نڈھال، تو کوئی مردہ حالت میں لایا جارہا تھا ، اسپتالوں میں بیڈز کم اسٹریچرز کی کمی، ایمبولینسس ناپید ہوگئیں، جناح اسپتال کی شعبہ حادثات کی سینئیر انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق روزانہ پندرہ سے اٹھارہ سو مریض لو لگنے اور ہیٹ اسٹروک کے باعث لائے جارہے تھے، میں مرنے والوں کی تعداد روزانہ اپنی ڈائری میں لکھتی جارہی تھی،،، ایدھی سرد خانوں میں دو گھنٹے کے لئے میت رکھی جانے کی یاد دہانی پر لاش فرش پر یا کسی اور لاش کے اوپر رکھی جاتی، اس دوران ورثاء ایمبولینس ڈھونڈنے تو کوئی قبر کی تلاش اور گھر میں پانی کی قلت کے سبب واٹر ٹینکر والے کی منت سماجت کرتا دکھائی دیتا، بلدیہ ٹاون کی ایک بوڑھی خاتون جن کا واحد سہارا انکے شوہر تھے وہ ہیٹ اسٹروک کے سبب انھیں اس دنیا میں اکیلا چھوڑ گئے جب انھیں شوہر کی میت لیجانے کے لئے گھنٹوں ایمبولینس نہ ملی تو وہ ٹرک میں اپنے جیون ساتھی کا لاشہ رکھ کر آخری رسومات کے لئے گھر لے گئیں، عید قربان میں جو گاڑیاں قربانی کے جانوروں کو لیجانے کے کام آتی تھی ۔اس شہر میں جہاں پونے دو کروڑ کی آبادی ہو اور ملک کو 70 فیصد ریونیو کما کر دیتا ہو وہاں لاشیں گھروں میں منتقل کرنے کے کام آرہی تھی، ایدھی سرد خانے میں جہاں 150 لاشیں بیک وقت رکھنے کا انتظام ہے وہاں اندر 200 تو باہر کئی درجن ایمبولینسس میں پڑی لاشیں انتظار سڑ رہی تھیں،،، بارہ سو تو سرکاری اعدادو شمار ہیں وہ کیسز علیحدہ ہیں جو رپورٹ نہ ہوسکے کوئی گھر یا گلی ایسی نہ ہوگی جہاں سے کسی کا کوئی پیارا جدا نہ ہوا ہو۔ قبریں اٹھارہ سے بیس ہزار تک جا پہنچیں،،، کئی گھر اجڑ گئے، کئی گھروں کے کفیل ختم ہوگئے،،، اور ایوانوں میں بحث جاری رہی کہ اتنی موات کی ذمہ داری وفاق کی ہے، نہیں یہ تو سندھ حکومت کی ہے، ارے نہیں جناب کے الیکٹرک اس کا ذمہ دار ہے،، عابد شیر علی فرماتے ہیں کہ اگر کسی کا دم گھٹ کر انتقال ہوجائے تو وفاق ذمہ دار نہیں،،، خواجہ آصف نے کہانی نیپرا اور کے الیکٹرک میں الجھا ڈالی، سندھ کے وزیر اعلی سید قائم علی شاہ تو اتنے معصوم کے فرماتے ہیں کہ دو روز سے شہر میں نہیں تھا صوبائی ڈساسٹر منجمنٹ سے پوچھ کر بتاونگا کہ کراچی میں کیا ہوا؟
سائیں کو کچھ نہ ملا تو سرکاری چھٹی کا اعلان کردیا،، دریا دلی تو دیکھیں سرکاری چھٹی ان لوگوں کو دی جو بیٹھتے ہی سرد کمروں میں ہیں،،، یا عمومی طور پر غیر حاضر رہتے ہیں،، خود کے الیکٹرک کے خلاف دھرنا دے دیا کہ کوئی اب ان سے سوال نہ کرلے، مجھ سے کسی نے کہا کہ اتنی گرمی میں لوگ لقمہ اجل بن گئے ان سیاستدانوں کو گرمی اثر نہیں کرتی جو جواب میں نے دیا وہ یہاں لکھنا غیر مناسب ہوگا۔
 ہاں عالم پناہ عزت ماب نواز شریف صاحب یہ اموات جو ہوئیں اس میں آپ کا قصور نہیں، نہ ہی سندھ کی عوام دوست شہیدوں کی پارٹی پیپلز پارٹی کا قصور، نہ ہی کے الیکٹرک اس کی ذمہ دار ہے اور نہ متوسط طبقے کی واحد جماعت ایم کیوایم کا اس میں کوئی دوش ہے،،، یہ تمام لوگ بے تحاشہ سہولیات سے مرے ہیں۔ وہ سہولیات جو آپ جیسے عام لوگوں کو تو نہیں لیکن اس ملک کی عوام کو میسر ہیں، اس عوام کے بینک اکاونٹس بیرون ملک جو ہیں، انکے گھروں میں دس دس اسپلٹس کنڈوں پر لگے ہیں، یہ ٹیکس چور ہیں، یہ کئی کئی ہزارایکڑ اراضیوں کے مالک ہیں، اگر کچھ کم پڑ جائے تو انکی فنڈنگ بیرون ملک سے ہوجاتی ہے، آپ سب کا کیا قصور؟ آپ تو معصوم ہیں،،، آپ کو تو معلوم ہی نہیں کہ بلدیاتی حکومتوں میں راج کرنے کے دوران آپ سے اس شہر میں آبادی کے تناسب سے 8 سے 10 سرد خانے نہ بن سکے کیونکہ سرد خانے بنانا تو بے حد مشکل کام ہے کیو ں کہ آپ کے اپنے گھر اور ایوان کسی سرد خانے سے کم نہیں، آپ اتنے معصوم ہیں کہ آپ کو یہ بھی نہیں پتہ کہ ایدھی اور چھیپا ملک کی سب سے بڑی ایمبولینس چلانے والی نجی ادارے ہیں انھیں سالانہ اگر آپ 50 ایمبولینسس دے دیتے تو نوبت یہ نہ آتی کہ لوگ میتیں مویشی لیجانے والی گاڑیوں میں  لے  کرجاتے،، آپ تو اتنے انجان ہیں کہ اس قدرتی آفت میں کچھ نہ سہی عارضی سرد خانے قائم کرنے کی بھی جسارت نہیں کرسکتے، یہ کام بھی آپ کے بجائے آرمی اور رینجرز نے اپنے ذمے لے لیا، عارضی ہیٹ اسٹرؤک اسینٹرز کسی عمارت میں نہیں قائم کئے گئے، بلکہ قناتوں کی مدد سے قائم کئے گئے جس میں چلرز اور 50 بستروں پر مشتمل چھوٹا سا اسپتال بنادیا گیا۔ کیا یہ کام اتنا دشوار تھا کہ اس میں بھی آرمی کی مدد لی جاتی؟ اگر ہیٹ اسٹروک سینٹرز کے قیام، ادویات کی فراہمی، زلزلوں، طوفانوں اورعوام کی خدمت کے لئے آرمی کو بلایا جاتا ہے تو اس وقت یہ سیاستدان کیوں ٹسوے بہاتے ہیں جب یہ آرمی پورا ملک چلانے کے لئے میدان میں اتر جاتی ہے،،،، بنیادی کاموں میں حکومت بے بس، صوبائی حکومت بے اختیار ہے تو کس حیثیت سے یہ نمائندگان ایوانوں میں بیٹھتے ہیں؟ شدید گرمی میں مرنے والوں کو ٹھنڈک تو میسر ہوئی لیکن سرد خانے میں لیکن ان کا کیا جو سرد کمروں میں بیٹھے اپنا خون تک جما بیٹھے۔ ان جیسوں کے لئے شرم و حیا تو دور غیرت کا لفظ بھی چھوٹا پڑ جاتا ہے،،، کوئی ایسا شخص میں نے ان دس دنوں میں نہیں دیکھا جس نے رضاکارانہ طور پر کسی اسپتال کے باہر گرمی میں ایک سے دو گھنٹے دئے ہوں یہ کام درد دل رکھنے والے شہریوں نے کیا یا پھر افواج پاکستان نے کیا،،، شہریوں نے ہی اپنی  مدد آپ کے تحت اسپتال آنے والوں کو پانی، مشروبات، اور سر ڈھانپنے کے لئے تولئیے فراہم کئیے اور یہ تمام سیاستدان شام کو ٹی وی چینلز کی ٹاک شو میں صرف الزامات دینے میں مصروف نظر آئے، میری ایک دوست نے کہا کہ کیا ان بے غیرت، بے ضمیر سیاستدانوں کو غیرت دلانے کے لئے یہ کہہ دیا جائے کہ گرمی کے باعث کراچی کے 1200 سے زائد ووٹرز مر گئے، شاید یہ جاگ جائیں، میں نے جواب دیا نہیں انھیں فرق نہیں پڑے گا کیونکہ تین سال قبل میرے والد اس دنیا سے چلے گئے تھے لیکن 2013 کے عام انتخابات میں ان کا ووٹ کاسٹ ہوا تھا، اس ملک می  تو لاشیں، مردے سب ہی ووٹ دیتے ہیں تب ہی تو نہ بھٹو مرتا ہے نہ کوئی شریف، کوئی بیرون ملک سے بیٹھ کر تگنی کا ناچ نچاتا ہے تو کوئی کینیڈا سے یہاں آکر امپورٹد انقلاب لانے چلا آتا ہے، کسی کو امپائر کی انگلی کا اشارہ ملنے میں چار ماہ لگ جاتے ہیں تو کوئی ابھی تک اسی خواب میں جی رہا ہے کہ یہ ملک اسلامی بن جائے۔
کل رات میری بہن نے مجھ سے اچانک سوال کیا کہ صحافت آپ سے ہوتی نہیں سیاست آپ کر نہیں سکتیں تو مستقبل میں کیا ارادے ہیں،،،، میں نے جواب دیا "میں سرد خانے بنانا چاہتی ہوں  کیونکہ اس میں سیاست کی ضرورت نہیں"۔